مناسک حج

دونوں یا کسی ایک وقوف کو حاصل کرنا

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں وقوف اختیاری اور وقوف اضطراری، اگر مکلف دونوں وقوف اختیاری حاصل کرے تب بھی کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر وقوف اختیاری کسی عذر کی وجہ سے حاصل نہ کر سکے تو اس کی چند صورتیں ہیں:
۱۔ دونوں وقوف کے اختیاری و اضطراری میں سے کوئی حاصل نہ ہو تو حج باطل ہے اور واجب ہے کہ اس حج کے احرام سے عمرہ مفردہ انجام دیا جاہے اگر یہ حج حج الاسلام تھا اور واجب ہے کہ اگر استطاعت باقی ہو یاحج اس کے ذمہ ثابت و واجب ہو چکا ہو تو آیندہ سال دوبارہ حج کرے ۔
۲۔ عرفات کا وقوف اختیاری اور مزدلفہ کا وقوف اضطراری حاصل ہو۔
۳۔ عرفات کا وقوف اضطراری اور مزدلفہ کا وقوف اختیاری حاصل ہو درج بالا دونوں صورتوں میں بلا اشکال حج صحیح ہے ۔
۴۔ عرفات کا وقوف اضطراری حاصل ہو تو اظہر یہ ہے کہ حج صحیح ہے اگر چہ احوط ہے کہ اگلے سال دوبارہ حج کیا جائے جیسا کہ پہلی صورت میں ذکر ہوا ۔
۵۔ صرف مزدلفہ کا وقوف اختیاری حاصل ہونے کی صورت میں بھی حج صحیح ہے ۔
۶۔ صرف مزدلفہ کا وقوف اضطراری حاصل ہو تو اظہر یہ ہے کہ حج باطل ہو جائے گا اور عمرہ مفردہ میں تبدیل ہو جائے گا ۔
۷۔ صرف عرفات کا وقوف اختیاری حاصل ہر تو اظہر یہ ہے کہ حج باطل ہو جائے گا اور عمرہ مفردہ میں تبدیل ہو جائے گا اس حکم سے یہ مورد مستثنی ہے کہ جب حاجی مزدلفہ کے وقت اختیاری میں منی جاتے ہوئے مزدلفہ سے گزرے لیکن مسلہ نہ جاننے کی وجہ سے وہاں قیام کی نیت نہ کرے تو اگر وہاں سے گزرتے ہوے ذکر خدا کیا ہو تو بعید نہیں کہ اس کا حج صحیح ہو ۔
۸۔ صرف عرفات کا وقوف اصطراری حاصل ہوا ہو تو اس کا حج باطل ہوگا اور عمرہ مفردہ میں تبدیل ہو جائے گا ۔