مناسک حج

سعی میں شک

سعی کا موقع گذرنے کے بعد اگر سعی کے چکروں کی تعداد یا ان کے صحیح ہونے کی بارے میں شک ہو تو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے مثلا عمرہ تمتع میں تقصیر کے بعد سرعی کے چکروں کی تعداد یا صحیح ہونے کا شک یا حج میں طواف النساء شروع ہونے کے بعرد شک ہو تو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے۔ اگر سعی سے فارغ ہونے کے بعد ہی چکروں کے زیادہ ہونے کے بارے میں شک ہو تو سعی کو صحیح سمجھا جائے ۔ اگر چکروں کے کم ہونے کا شک تسلسل ختم ہونے سے پہلے ہو تو سعی باطل ہوگی بلکہ احتیاط کی بناپر تسلسل ختم ہونے کے بعد شک ہو تب بھی سعی باطل ہو گی۔

(۳۴۸) اگر چکر کے اختتام پر زیادہ ہونے کا شک ہو مثلا مروہ پہچ کر شک ہو کہ یہ ساتواں چکر تھا یا نواں تو اس شک کی پرواہ نہ کی جائے اور یہ سعی صحیح ہوگی۔ اگر چکر کے دوران یہ شک ہو تو سعی باطل ہے اور واجب ہے کہ سعی پھر سے شروع کی جائے ۔

(۳۴۹) سعی کے دوران شک کا حکم وہی ہے جو طواف کے دوران چکروں کی تعداد میں شک کا حکم ہے چنانچہ سعی کے دوران چکرواں کی تعداد کی شک سے ہر صورت میں سعی باطل ہے ۔