مناسک حج

احکام سعی

سعی ارکان حج میں سے ایک رکن ہے لہذا اگر کوئی مسئلہ نہ جانتے ہوئے یا خود سعی کے بارے میں علم نہ رکھنے کی وجہ سے جان بوجھ کر سعی کو اس وقت تک ترک کردے کہ اعمال عمرہ کو عرفہ کے دن زوال آفتاب سے پہلے تک انجام دینا ممکن نہ ہو تو اس کا حج باطل ہے۔ اس کا حکم وہی ہے جو اس طرح طواف کو چھوڑ دینے والے کا حکم ہے جو طواف کے باب میں بیان ہو چکا ہے ۔

(۳۴۱) اگر بھول کر سعی چھوٹ جائے تو جب بھی یاد آئے خواہ اعمال حج سے فارغ ہونے کے بعد یاد آئے سعی ادا کی جائے اگر خود ادا کرنا ممکن نہ ہو یا حرج و مشقت و زحمت جو تو کسی دوسرے کو سعی کے لیے نائب بنایا جائے اور دونوں صورتوں میں حج صحیح ہوگا ۔

(۳۴۲) جو شخص سعی کو اس کے وقت مقررہ پر انجام دینے پر قادر نہ ہو اور کسی کی مدد سے بھی سعی نہ کر سکتا ہو تو واجب ہے کہ کسی کی مدد طلب کرے تا کہ وہ دوسرا شخص اسے کندھوں پر اٹھا کر یا کسی گاڑی وغیرہ نہیں بیٹھا کر سعی کرائے۔ اگر اس طرح سے بھی سعی نہ کر سکتا ہو تو کسی کو سعی کے لیے نائب بنائے اور نائب بنانے پر قادر نہ ہو مثلا بیہوش ہو تو اس کا ولی یا کوئی اور شخص اسی جانب سے سعی انجام دے، اس طرح اس کا حج صحیح ہوگا ۔

(۳۴۳) طواف اور نماز طواف سے فارغ ہونے کے بعد احتیاط کی بناء پر سعی میں جلدی کی جائے۔ اگر چہ ظاہر یہ ہے کہ رات تک تاخیر کرنا جائز ہے تا کہ تھکن دور ہو جائے یا گرمی کی شدت کم ہو جائے۔ بلکہ اقوی یہ ہے کہ بغیر سبب کے بھی رات تک تاخیر کرنا جائز ہے لیکن حالت اختیار میں اگلے دن تک تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔

(۳۴۴) سعی میں چکروں کے زیادہ ہونے کا وہی حکم ہے جو طواف میں چکروں زیادہ ہونے کا ہے لہذا طواف کے باب میں مذکورہ بیان کی مطابق سعی میں بھی جان بوجھ کر زیادتی کی جائے تو سعی باطل ہو گی۔ لکین اگر مسئلہ نہ جانتا ہو تو اظہر یہ ہے کہ زیادتی کی وجہ سے سعی باطل نہیں ہوگی اگر چہ احوط یہ ہے کہ سعی دوبارہ انجام دی جائے۔

(۳۴۵) اگر غلطی سے سعی میں اضافہ ہو جائے تو سعی صحیح ہوگی اور ایک چکر یا اس سے زیادہ اضافہ ہو تو مستحب یہ ہیکہ اس سعی کی بھی سات چکر پورے کیے جائیں تاکہ یہ پہلی سعی کے علاوہ مکمل سعی ہو جائے چنانچہ اس کی سعی کا اختتام صفا پر ہوگا۔

(۳۴۶) اگر کوئی جان بوجھ کر سعی کے چکروں کو کم یا زیادہ انجام دے جاہے مسئلہ جانتے ہوئے یا نہ جانتے ہوئے تو اس کا حکم اس شخص کی حکم کی طرح ہے جو جان بوجھ کر سعی کو چھوڑ دے جس کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ لیکن اگر بھول کر کمی ہو جائے تو اظہر یہ ہے کہ جب یاد آجائے تو اس وقت اس کمی کو پورا کرے چاہے وہ ایک چکر ہو یا ایک سے زیادہ چکر ہوں اگر سعی کا وقت ختم ہونے کے بعد یاد آئے مثلا عمرہ تمتع کی سعی میں کمی عرفات میں یاد آئے کیا حج کی سعی میں کمی کی طرف۔ ماہ ذی الحجہ گزرنے کے بعد متوجہ ہو تو یہ کہ کمی کو پورا کرنے کے بعد سعی کو بھی دوبارہ انجام دی جائے۔ اگر خود انجام نہ دے سکتا ہو یا خود انجام دینے میں زحمت و مشقت ہو تو کسی نائب بنانے اور احتیاط یہ ہی کہ نائب بھولے ہوئے چکر کا جبران بھی کرے سعی بھی دوبارہ انجام دے ۔

(۳۴۷) اگر کسی سے عمرہ تمتع کی سعی میں بھول کر کمی ہو جائے اور یہ شخص یہ سمجھتے ہوئے کہ سعی سے فارغ جو گیا ہے احرام کھول دے تو احوط یہ ہے کہ ایک گائے کفارہ دے اور بیان شدہ ترتیب کے مطابق سعی کو مکمل کرے ۔