مناسک حج

طواف میں زیادتی

طواف میں زیادتی کی پانچ صورتیں ہیں:
۱۔ طواف کرنے والا زیادتی کو اس طواف یا دوسرے طواف کا جز نہ سمجھے یعنی سات چکر پورے کرنے کے بعد مستحب کی نیت سے ایک اور چکر انجام دینے سے طواف باطل نہیں ہوگا۔
۲۔ طواف شروع کرتے وقت ہی یہ ارادہ ہو کہ زائد حصے کو اس طواف کے جز کی نیت سے انجام دے گا تو اس صورت میں اس کا طواف باطل ہے اور ضروری ہے کہ طواف کو دوبارہ انجام دے۔۔ اسی طرح اگر طواف کے دوران اس قسم کا ارادہ کرے اور کچھ حصہ زیادہ انجام دے تو یہی حکم ہے لیکن اگر زیادہ حصہ نیت کے بعد انجام نہ دے تو نیت کرنے سے پہلے والے چکر کے باطل ہونے میں اشکال ہے ۔
۳۔ زائد چکر اس نیت سے کرے کہ جس طواف سے فارغ ہوا ہے یہ اس کا جز ہے جبکہ عرفا موالات ختم نہ ہوا ہو یعنی طواف سے فارغ ہونے کے بعد زاید چکر کے جز ہونے کا قصد کرے تو اظہر یہ ہے کہ طواف باطل ہے ۔
۴۔ زائد چکر اس نیت سے کرے کہ یہ دوسرے طواف کا جز ہے اور پھر دوسرے طواف کا کوئی بھی جز بجا نہ لائے تو اس صورت میں نہ ہی زیادتی وجود میں آیئگی اور نہ ہی قران ہوگا لیکن بعض صورتوں میں ممکن ہے کہ اس وجہ سے طواف کرنے والے کو قصد قربت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اس کا طواف باطل بھی ہو سکتا ہے مثلا کوئی شخص قران کی نیت رکھتا ہو جو کہ حرام ہے اور جانتا بھی ہو کہ قران کی وجہ سے طواف باطل ہو جاتا ہے تو اس صورت میں قصد قربت ثابت نہیں اگرچہ اتفاقا عملی طور پر قران بھی واقع نہ ہو ۔

(۳۱۴) اگر سہوا طواف میں چکر زیادہ ہو جائے اور رکن عراقی تک پہنچنے کے بعد یاد آئے تو زائد چکر کو باقی چکروں کے ساتھ ملا کر طواف کو پورا کرے۔ بنابر احوط یہ ہے کہ طواف واجب یا مستحب کا تعین کیے بغیر یعنی مطلقا قصد قربت سے انجام سے دے اور اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھے افضل بلکہ احوط یہ ہے کہ دونوں نمازوں کو جدا جدا پڑھے یعنی دو رکعت سعی سے پہلے واجب طواف کی نیت سے اور دو رکعت سعی کے بعد مستحب طواف کی نیت سے اسی طرح اگر رکن عراقی تک پہنچنے سے پہلے یاد آئے تو بھی بنا بر احوط یہی حکم ہے ۔