مناسک حج

طواف

عمرہ تمتع میں دوسرا واجب عمل طواف ہے طواف کو عمدا چھوڑنے سے حج باطل ہو جاتا ہے چاہے اس حکم کا علم ہو یا نہ ہو اور حکم سے ناآشنا شخص پر بنابر احوط ایک اونٹ کفارہ ہوگا۔ طواف ترک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ طواف انجام دینے میں اتنی تاخیر کی جائے کہ عرفہ کے دن زوال سے پہلے اعمال عمرہ ادا نہ کیے جا سکیں۔ اظہر یہ ہے کہ اگر عمرہ باطل ہو جائے تو احرام بھی باطل ہو جاتا ہے چنانچہ عمرہ تمتع سے حج افراد میں طرف عدول و رجوع کرنا کافی نہیں ہے۔ اگر چہ احوط ہے ۔ یعنی حج افراد کے اعمال انجام دیے جائیں بلکہ احوط یہ ہے کہ طواف، نماز طواف، سعی، حلق یا تقصیر کو حج افراد و عمرہ تمتع کی عمومی نیت سے انجام دے کہ ان دو میں سے جو واجب ہے اسے انجام دے رہا ہوں۔