مناسک حج

شکار کے کفارات

(۲۰۷) اگر محرم شتر مرغ کو ہلاک کر دے تو ایک اونٹ کفارہ دینا ہوگا اگر جنگلی گائے کو مارے تو ایک گائے کا کفارہ دے بنابر احوط وحشی گائے کو بھی مارنے کا بھی یہی حکم ہے ہرن اور خرگوش کے مارنے پر ایک بکری دے بنابر احوط لومڑی کو مارنے کا بھی یہی حکم ہے۔

(۲۰۸) جو شخص ایسے جانور کا شکار کرے جس کا کفارہ اونٹ ہو اور اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اونٹ خرید سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے اور ہر مسکین کو ایک مدّ (تقریبا ۷۵۰گرام) کھانا دے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو (۱۸) روزے رکھے اگر وہ ایسا جانور ہو کہ جس کا کفارہ گائے ہو اور گائے خریدنے کے پیسے نہ ہوں تو تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے اور کھانا نہ کھلا سکتا ہو (۹) روزے رکھے اگر وہ ایسا جانور ہو جس کا کفارہ بکری ہو اور اگر بکری نہ خرید سکتا ہو تو (۱۰) مسکینوں کو کھانا کھلائے اور یہ بھی نہ کر سکے تو ۳ دن روزے رکھے۔

(۲۰۹) قطاة، چکور اور تیتر کو مارنے پر بھیڑ کا ایسا بچہ جو دودھ چھوڑ کر گھاس چرنا شروع کر دے بطور کفارہ دینا واجب ہے چڑیا، چنڈول اور ممولا وغیرہ مارنے پر اظہر یہ ہے کہ ایک مد طعام دے اور مذکورہ پرندوں کے علاوہ کبوتر یا کوئی اور پرندہ مارنے پر ایک دنبہ کفارہ دے اور ان کے بچے کو مارنے پر ایک بکری کا بچہ یا بھیڑ کا بچہ کفارہ دے اور انڈے کہ جس میں بچہ حرکت کر رہا ہو، کا بھی یہی حکم ہے اور اگر انڈے میں بچہ ہو جو حرکت نہ کر رہا ہو تو ایک درھم کفارہ دے بلکہ بنابر احوط اگر انڈے میں بچہ نہ بھی ہو تو بھی ایک درھم کفارہ دے ایک ٹڈی کے قتل پر ایک کھجور یا مٹھی بھر طعام کفارہ دے اور مٹھی بھر طعام دینا افضل ہے اور اگر متعدد ٹڈیاں ہوں تو کفارہ بھی متعدد ہو جائے گا لیکن اگر عمومی طور پر وہ بہت زیادہ شمار ہوں تو کفارہ پھر ایک بکری دینا ہوگا۔

(۲۱۰) جنگلی چوہے، خار پشت اور سوسمار (گوہ) وغیرہ مارنے پر بکری کا بچہ اور صحرائی چھپکلی مارنے پر مٹھی بھر کفارہ دے ۔

(۲۱۱) زنبور (شہد کی مکھی) کو عمدا مارنے پر کچھ مقدار طعام کفارہ دے تاہم اذیت سے بچنے کے لئے مارنے پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔

(۲۱۲) اگر محرم حرم سے باہر شکار کرے تو اس کو ہر حیوان کے مطابق کفارہ دینا ہوگا اور جن حیوانات کے لئے کفارہ معیّن نہ ہو تو ان کی بازار میں موجودہ قیمت کفارہ کے طور پر دے اور اگر کسی حیوان کو محل (بغیر احرام والا) شخص مار دے تو اس کی قیمت کفارہ دے سوائے شیر کے اظہر یہ ہے کہ اس کا کفارہ ایک میں ڈھا دینا ہوگا اور اگر محرم حرم میں شکار کرے تو اسے دونوں کو جمع کر کے دینا ہوگا۔

(۲۱۳) محرم کے لئے ایسے راستے کو ترک کرنا جس پر ٹڈے زیادہ ہوں واجب ہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو تو پھر ان کے مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(۲۱۴) اگر کچھ لوگ جو کہ حالت احرام میں ہوں مل کر شکار کریں تو ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ کفارہ دینا پڑے گا ۔

(۲۱۵) شکار کئے گئے جانور کا گوشت کھانے کا کفارہ اور شکار کرنے کا کفارہ برابر ہے چنانچہ اگر کسی نے حالت احرام میں شکار کیا اور پھر اس کو کھا لیا تو دو کفارے واجب ہوں گے ایک شکار کا، دوسرا کھانے کا۔

(۲۱۶) محرم کے علاوہ اگر کوئی اور شخص شکار کو لے کر حرم میں داخل ہو تو اس پر واجب ہے کہ اسے چھوڑ دے۔ چنانچہ اگر وہ نہ چھوڑے اور وہ مر جائے تو اس پر کفارہ دینا واجب ہے مسئلہ نمبر ۲۰۱ میں بیان شدہ تمام صورتوں میں احرام باندھتے وقت شکار کو ساتھ رکھنا حرام ہے ۔ چنانچہ اگر اس نے آزاد نہ کیا اور وہیں مرگیا تو کفارہ دے اور احوط یہ ہے کہ خواہ حرم میں داخل ہونے سے پہلے بھی مرجائے تب بھی کفارہ دے۔

(۲۱۷) حیوان کا شکار یا اس کا گوشت کھانے پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ فعل جان بوجھ کر کرے یا بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے سرزد ہوا ہو ۔

(۲۱۸) شکار کے تکرار سے کفارہ بھی مکرر ہو جاتا ہے۔ چاہے اس کی وجہ غلطی یا بھول یا لاعلمی ہو اسی طرح بغیر احرام والا شخص عمدا حرم میں اور محرم شخص متعدد احراموں میں شکار کا تکرار کریں تو کفارہ بھی مکرر ہو جائے گا۔ لیکن اگر محرم عمدا ایک ہی احرام میں شکار کی تکرار کرے تو صرف ایک کفارہ واجب ہو جائے بلکہ یہ ان افراد میں سے ہوگا جن کے بارے میں خدانے کہا کہ و من عاد فینتقم اللہ منہ یعنی جو تکرار کرے گا اللہ اس سے انتقام لے گا۔
۲۔ جماع

(۲۱۹) محرم پر عمرہ تمتع کے دوران، عمرہ مفردہ کے دوران اور اثنائے حج نماز طواف النساء سے پہلے جماع کرنا حرام ہے۔

(۲۲۰) اگر عمرہ تمتع کرنے والا عمدا اپنی بیوی سے جماع کرے تو چاہے قبل (آگے) میں کرے یا دبر (پیچھے) میں کرے اگر سعی کے بعد کیا ہو تو اس کا عمرہ باطل نہیں ہوگا تا ہم کفارہ واجب ہوگا اور بنابر احوط کفارے میں ایک اونٹ یا ایک گائے دے اور اگر سعی سے فارغ ہونے سے پہلے جماع کرے تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو بیان ہو چکا اور احوط یہ ہے کہ اپنا عمرہ تمام کرے پھر اس کے بعد حج کرے اور پھر آئندہ سال ان کو دوبارہ انجام دے۔

(۲۲۱) اگر حج کے لئے احرام باندھنے والا جان بوجھ کر اپنی بیوی کے ساتھ مزدلفہ کے وقوف سے پہلے جماع کرے خواہ قبل میں کرے یا دبر میں، تو اس پر کفارہ واجب ہے اور واجب ہے کہ اس حج کو پورا کرے اور آئندہ سال اس کا اعادہ کرے خواہ حج واجب ہو یا مستحب، عورت کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر وہ احرام کی حالت میں ہو اور حکم کو جانتی ہو اور اس عمل پر راضی ہو تو اس پر کفارہ واجب ہے اور ضروری ہے کہ حج کو پورا کرکے آئندہ سال اس کا اعادہ کرے لیکن اگر عورت کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو تو اس پھر کچھ واجب نہیں ہے اور شوہر پر دو کفارے واجب ہیں جماع کا کفارہ ایک اونٹ ہے اور اگر اونٹ نہ دے سکے تو ایک بکری کفارہ دے اور اس حج میں واجب ہے کہ شوہر و بیوی جدا جدا رہیں یعنی دونوں اس وقت تک ایک جگہ جمع نہ ہوں جب تک کوئی تیسرا موجود نہ ہو یہاں تک کہ دونوں اعمال حج سے فارغ ہو جائیں حتی کہ منی کے اعمال سے بھی فارغ ہو کر اس جگہ جائیں جہاں جماع کیا تھا لیکن اگر کسی اور راستے سے آئیں (یعنی جماع کی جگہ اس راستے میں نہ ہو) تو جائز ہے کہ اعمال تمام ہونے کے بعد وہ ایک ساتھ آئیں اسی طرح دوبارہ کیے جانے والے حج میں بھی جماع کرنے والی جگہ پر پہنچنے سے لے کر منی میں ذبح کرنے تک دونوں کا جدا رہنا واجب ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ اس وقت تک جدا رہیں جب تک کہ تمام اعمال حج سے فارغ ہو کر واپس اس جگہ آ جائیں جہاں جماع ہوا تھا۔

(۲۲۲) اگر محرم عمدا وقوف مشعر کے بعد اور طواف النساء سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرے تو سابقہ مسئلہ میں بیان شدہ کفارہ واجب ہے لیکن حج کا اعادہ کرنا واجب نہیں اور یہی حکم ہے اگر طواف النساء کا چوتھا چکر مکمل کرنے سے پہلے جماع کرے لیکن اگر چوتھا چکر مکمل ہونے کے بعد ہو تو کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔

(۲۲۳) اگر محرم عمرہ مفردہ میں عمدا اپنی بیوی سے جماع کرے تو سابقہ بیان شدہ کفارہ اس پر واجب ہے اور سعی کے بعد جماع کرنے پر اس کا عمرہ باطل نہیں ہوگا لیکن اگر سعی سے پہلے کرے تو اس کا عمرہ باطل ہو جائے گا چنانچہ واجب ہے کہ اگلے مہینے تک مکہ میں رہے اور مشہور پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات سے عمرہ کا اعادہ کرنے کے لئے احرام باندھے، بنابر احوط ادنی حل سے احرام باندھنا کافی نہیں ہے اور یہ بھی احوط ہے کہ باطل ہونے والے عمرہ کو بھی مکمل کر ے۔

(۲۲۴) اگر محل (بغیر احرام والا) شخص اپنی احرام والی بیوی کے ساتھ جماع کرے تو اگر بیوی راضی ہو تو عورت پر واجب ہے کہ ایک اونٹ کفارہ دے۔ لیکن اگر راضی نہ ہو بلکہ مجبوری ہو تو کچھ واجب نہیں ہے اور احوط ہے کہ شوہر اپنی بیوی پر واجب ہونے ولے کفارے کا نقصان ادا کرے یعنی کفارے کی قیمت ادا کرے ۔

(۲۲۵) اگر محرم شخص لاعلمی کی وجہ سے یا بھول کی وجہ سے اپنی بیوی سے جماع کرے تو اس کا عمرہ اور حج صحیح ہے اور اس پعر کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔ یہ حکم کفارہ کا موجب بننے والے محرمات انجام دینے میں بھی جاری ہوگا۔ جن کی تفصیل آگے آئے گی۔ یعنی لاعلمی یا بھول کی وجہ سے محرم ان محرمات کا مرتکب ہو تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ تا ہم مندرجہ ذیل بعض موارد مستثنی ہیں:
۱۔ حج یا عمرہ میں طواف کرنا بھول جائے۔ یہاں تک کہ اپنے شہر واپس آ کر اپنی بیوی سے مجامعت کرے ۔
۲۔ عمرہ تمتمع میں سعی کی کچھ مقدار بھول جائے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ سعی مکمل ہوگئی ہے احرام سی فارغ ہو جائے ۔
۳۔ اگر بلا وجہ اپنے سر یا داڑھی پر ہاتھ پھیری جس کی وجہ سے ایک سغ زیادہ بال گر جائیں۔
۴۔ اگر کوئی لاعملی کی وجہ سے خوشبودار تیل یا جسمیں خوشبو ملائی گئی ہو اپنے بدن میں ملے ان سب کا حکم اپنی جگہ پر آئے گا۔
۳۔ عورت کا بوسہ لینا۔

(۲۲۶) محرم کا لذت کے ارادہ سے اپنی بیوی کا بوسہ لینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ اگر اس نے لذت سے بوسہ لیا اور منی نکل گئی تو اونٹ کفارہ واجب ہو جائے گی اور اگر منی خارج نہ ہو تو بعید نہیں کہ ایک گوسفند کا کفارہ واجب ہو اگر لذت سے بوسہ لیا ہو احتیاط واجب یہ ہے کہ ایک بکری کفارہ دے ۔

(۲۲۷) اگر محل (بغیر احرام والا) شخص اپنی بیوی کا بوسہ لے تو احتیاط یہ ہے کہ ایک بکری کفارہ د ے۔
۴۔ عورت کو مس کرنا۔
محرم کا شہوت کے ساتھ اپنی بیوی کو مس کرنا، اٹھانا یا اپنے بازؤں میں بھیچنا جائز نہیں ہے اور اگر کسی نے ایسا کیا تو لازم ہے کہ ایک بکر ی کفارہ دے خواہ منی خارج ہو یا نہ ہو۔ لیکن اگر ایسا کرنا لذت کے لیے نہ ہو تو کفارہ واجب نہیں ہے۔
۵۔ عورت کو دیکھنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا۔

(۲۲۹) محرم کے لیے جائز نہیں کہ اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے چنانچہ اگر ایسا کرنے سے منی خارج ہو جائے تو ایک اونٹ کفارہ دے اور اگر اونٹ نہ دے سکتا ہو تو ایک بکری دے اگر شوہر کو معلوم ہو کہ شہوت سے دیکھنے کی وجہ سے منی خارج ہو جائے گی تو واجب ہے کہ وہ نہ دیکھے بلکہ احوط اولی یہ ہے کہ جاہے منی خارج ہو یا نہ ہو شہوت سے اپنی بیوی کی طرف نگاہ نہ کرے۔ چنانچہ شہوت کی نظر سے بیوی کو دیکھنے پر اگر منی خارج ہو تو احوط یہ ہے کہ کفارہ دے جو کہ ایک اونٹ ہے ۔ لیکن اگر منی خارج نہ ہو یا بغیر شہوت کے دیکھنے پر منی خارج ہو تو پھر کفارہ واجب نہیں ہے۔

(۲۳۰) اگر محرم اجنبی عورت کو ایسی نگاہ سے دیکھے جو اس کے لیے جائز نہیں ہے اور منی نہ نکلے تو کفارہ واجب نہیں ہے اور اگر منی نکل آئے تو لازم ہے کہ کفارہ دے اور احوط یہ ہے کہ اگر مالدار ہو تو ایک اونٹ کفارہ دے اور اگر متوسط ہو تو ایک گائے اور اظہر یہ ہے کہ ایک فقیر کو ایک بکری کفارہ دے۔

(۲۳۱) محرم کا اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھنے یا باتیں کرنے سے لذت حاصل کرنا جائز ہے اگر چہ احوط یہ ہے کہ محرم اپنی بیوی سے ہر قسم کی لذت حاصل کرنے کو ترک کرے ۔
۶۔ استمناء ۔

(۲۳۲) استمنا ء کی چند اقسام ہیں:
۱۔ عضو تناسل کو ہاتھ سے ملنا یا کسی اور چیز سے مطلقا حرام ہے۔ حج میں اس کا حکم وہی ہے جو جماع کا اور عمرہ مفردہ میں بھی بنابر احوط اس کا حکم یہی ہے۔ لہذا اگر محرم مذکورہ عمل کو احرام حج میں مشعر کے وقوف سے پہلے انجام دے تو لازم ہے کہ کفارہ دے اور اس حج کو تمام کرے اور آئندہ سال اس حج کا اعادہ بھی کرے اگر عمرہ مفردہ میں سعی سے فارغ ہونے سے پہلے یہ عمل انجام دے تو احتیاط واجب کی بناپر کفارہ دے۔ اس عمرہ کو تمام کرکے اگے ماہ اس کا اعادہ بھی کرے ۔
۲۔ اپنی بیوی کے بوسہ لینے، چھونے، دیکھنے یا چھیڑ چھاڑ کے ذریعے استمناء وہی حکم رکھتا ہے جو گزشتہ مسئلہ میں بیان ہو چکا ہے ۔
۳۔ عورت سے متعلق باتیں سننے سے یا اس کے اوصاف یا اس کے خیال و تصور کرنے سے استمناء کرنا بھی محرم پرحرام ہے۔ لیکن اظہر یہ ہے کہ موجب کفارہ نہیں ہے ۔
۷۔ نکاح کرنا۔

(۲۳۳) محرم کا نکاح کرنا یا کسی دوسرے کا نکاح پڑھنا جائز نہیں ہے چاہے دوسرا آدمی محرم ہو یا نہ ہو ،چاہے نکاح دائمی ہو یا غیر دائمی اور مذکورہ تمام صورتوں میں عقد باطل ہے ۔

(۲۳۴) اگر محرم کا کسی عورت سے نکاح کر دیا جائے اور وہ اس کے ساتھ جماع کرے تو اگر یہ لوگ حکم شرعی بلحاظ موضوع جانتے تھے تو محرم، عورت اور نکاح خواں پر ایک ایک اونٹ کفارہ واجب ہے اور اگر ان میں سے بعض حکم شرعی بلحاظ موضوع جانتے ہوں اور بعض نہ جانتے ہوں تو جو نہیں جانتے تھے ان پر کفارہ واجب نہیں ہوگا اس سے فرق نہیں پڑتا کہ نکاح خواں اور عورت محرم تھے یا نہیں ۔

(۲۳۵) فقہا کے درمیان مشہور ہے کہ محرم کے لیے کسی نکاح کی محفل میں شریک ہونا جائز نہیں ہے حتی کہ بنابر احوط اولی نکاح پر گواہی بھی نہ دے خواہ احرام باندھنے سے پہلے نکاح کی محفل میں شریک ہوا ہو ۔

(۲۳۶) احوط اولی یہ ہے کہ محرم نکاح کے لیے پیش کش بھی نہ کرے تاہم طلاق رجعی میں محرم رجوع کر سکتا ہے۔ جس طرح طلاق دینا بھی جائز ہے۔
۸۔ خوشبو لگانا۔

(۲۳۷) محرم کے لیے خوشبو کا استعمال حرام ہے چاہے سونگھے، کھانے، ملنے، رنگ یا بخارات لینے کی صورت میں ہو اسی طرح ایسا لباس پہننا بھی حرام ہے جس میں خوشبو کے اثرات باقی ہوں۔ خوشبو سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے جسم، لباس یا خوراک کو خوشبودار کیا جائے ۔ مثلا مشک عنبر، ورس اور زعفران وغیرہ۔ اظہر یہ ہے کہ محرم تمام معروف خوشبوؤں مثلا گل محمدی، گل یاسمین، گل رازقی وغیرہ سے اجتناب کرے تاہم خلوق کعبہ (خاص قسم کی خوشبو) کو سونگھنے سے اجتناب کرنا یا اس کو جسم پر یا لباس پر ملنے سے پرہیز کرنا واجب نہیں ہے۔ خلوق کعبہ ایک عطر ہے جو کہ زعفا اور دوسری چیزوں سے بنایا جاتا ہے اور اس سے کعبہ معظمہ کو معطر کیا جاتا ہے۔

(۲۳۸) ریاحین کو سونگھنا محرم کے لیے حرام ہے چاہے وہ ریاحین ہو جن سے عطر تیار کیا جاتا ہے مثلا یاسمیں، گلاب وغیرہ یا ان کے علاوہ دوسرے پودے ریاحین ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جن سے خوشبو آتی ہے اور انہیں سونگھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اظہر یہ ہے کہ بعض صحرائی خودرو سبزیوں کی خوشبو کو سونگھنا حرام نہیں ہے مثلا شیح (ایک قسم کی گھاس ہے) اذخر (خوشبودار گھاس) خزامی (ایک خوشبودار پودا) کا سونگھنا اشکال نہیں رکھتا۔ لیکن خوشبودار پھلوں اور سبزیوں مثلا سیب، بہ (ایک قسم کا پھل) اور طودینہ کو کھانا محرم کے لیے جایز ہے۔ لیکن احوط یہ ہے کہ کھاتے وقت انہیں نہ سونگھے یہی حکم خوشبودار تیل کا ہے چنانچہ اظہر یہ ہے کہ مہک دار تیل جو کھانے میں استمال ہوتا ہے اور عام طور پر رطرات میں شمار نہیں ہو اس کا کھانا جائز ہے لیکن احوط یہ ہی کھاتے وقت نہ سونگھے۔

(۲۳۹) صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے وقت اگر وہاں عطر بیچنے والے موجود ہوں تو محرم کا اپنے آپ کو خوشبو سے بچانا واجب نہیں ہے لیکن سعی کے علاوہ اس پر واجب ہے کہ خوشبو سونگھنے سے اپنے آپ کو بچائے سوائے خصوق کعبہ کے سونگھنے سے، جیسے مسئلہ ۲۳۷ میں بیان ہوا ہے کہ کعبہ کی خوشبو سونگھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(۲۴۰) اگر محرم عمدا کوئی خوشبودار چیز کھائے یا ایسا لباس پہنے جس میں خوشبو کا اثر باقی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ایک بکرا کفارہ دے لیکن ان دو موارد کے علاوہ خوشبو کا استعمال پر کفارہ واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر چہ احوط یہ ہے کہ کفارہ دے۔

(۲۴۱) محرم کا بدبو کی وجہ سے اپنے ناک کو بند رکھنا حرام ہے۔ تاہم اس مقام سے تیزی سے گذر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
۹۔ مرد کے لیے سلا ہوا یا ایسا لباس پہننا جو سلے ہوئے لباس کے حکم آتا ہو ۔

(۲۴۲) محرم کے لیے جائز نہیں کہ ایسا لباس پہنے جس میں بٹن یا ایسی چیز ہو جو بٹن کا کام دے سکتی ہو (یعنی ایسی چیز جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ سے بٹن یا کسی ایسی چیز سے ملا ہوا ہو) اسی طرح زرہ کی طرح لباس کا پہننا بھی جائز نہیں ہے (یعنی ایسا لباس جس میں آستین، گریبان ہو اور سر کو گریبان اور ہاتھوں کو آستینوں سے نکالے) اسی طرح پاجامہ اور اس جیسی چیزوں مثلا پتلون وغیرہ کو شرمگاہ کے چھپانے کے لیے پہننا جائز نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ ان میں بٹن نہ ہوں ۔ اور احتیاط واجب یہ ہے کہ عموما استعمال ہونے والے لباس مثلا قمیض، قبا، جبہ اور دوسرے عربی لباس نہ پہنے خواہ ان میں بٹن لگے ہوئے ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن مجبوری کی حالت میں قمیض یا کسی ایسی چیز کا اپنے کندھوں پر قبا کی طرح ڈالنا، قبا کو الٹا کرکے پہننا، قبا کی آستینوں سے اپنا ہاتھ نکالے بغیر پہننا جائز ہے۔ مذکورہ حکم میں لباس کے سلے ہوے، بنے ہوے یا تہدار ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ محرم کے لیے پیسوں کی تھیلی کا کمر سے باندھنا جائز ہے۔ چاہے سلی ہوئی ہو ۔ مثلا ہمیان (وہ چیز جسمیں پیسے رکھ کر کمر سے باندھا جاتا ہے) اور منطقہ (ایسا کمربند جسے مخلتف مقاصد کے لیے کمر سے باندھا جاتا ہے) اسی طرح ہرنیا کے مرض میں مبتلا محرم فتق بند (ایسا کمر بند جو مریض انتڑیوں کو نیچے آنے سے روکتا ہے) چاہے سلا ہو بوقت ضرورت استعمال کر سکتا ہے۔ اسی طرح محرم کے لیے سوتے وقت یا اس کے علاوہ اپنے جسم کو (سوائے سر کے) سلے ہوئے لحاف وغیرہ کے ڈھانپنا جائز ہے۔

(۲۴۳) احوط یہ ہے کہ محرم اپنی لنگ کو اپنی گردن میں ڈال کر نہ باندھے بلکہ کسی جگہ پر بھی نہ باندھے اور سوئی وغیرہ سے بھی اسے مضبوط نہ کرے بلکہ بنابر احوط چادر میں بھی گرہ نہ لگائے لیکن سوئی وغیرہ سے چادر کو مضبوط و محکم کرنے میں کوئی حر ج نہیں ہے۔

(۲۴۴) عورت کے لیے حالت احرام میں سوائے دستانوں کے ہر قسم کا سلا ہوا لباس پہننا جائز ہے ۔

اگر محرم عمدا ایسا لباس پہنے جس کا پہننا اس کے لیے جائز نہیں تھا تو واجب ہے کہ ایک بکری کفارہ دے بلکہ احوط یہ ہے کہ اگر مجبورا پہنے تب بھی کفارہ دے۔ اگر اس نے کئی مرتبہ اس لباس کو پہنا یا یک مشت کئی لباس پہنے ہوں تو ان کے عدد کے مطابق کفارہ دے مثلا کچھ کپڑوں کو ایک دوسرے کے اوپر ایک ہی مرتبہ پہنے جب کہ وہ مختلف لباس ہوں تب بھی ان کی تعداد کے برابر کفارہ دے۔
۱۰۔ سرمہ لگانا

(۲۴۶) سرمہ لگانے کی دو صورتیں ہیں:
۱۔ سیاہ سرمہ لگانا ایسا سرمہ لگایا جائے جسے عرف عام میں زینت شمار کیا جاتا ہو تو اظہر یہ ہے کہ محرم کے لیے زینت کی خاطر سرمہ لگانا حرام ہے۔ بلکہ احوط یہ ہے کہ اگر زینت کی لیے نہ بھی لگائے تب بھی حرام ہے۔ لیکن بحالت مجبوری مثلا بطور دوائی سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
۲۔ سیاہ سرمہ یا ایسا سرمہ کہ جو زینت کے لے استعمال ہوتا ہے ان دونوں قسم کے سرمہ کے علاوہ کوئی اور سرمہ لگائے تو اگر زینت کے لیے نہ لگائے تو کوئی حرج نہیں ہے ورنہ احوط یہ ہے کہ اس سرمہ کو بھی نہ لگائے ۔ تمام صورتوں میں سرمہ لگانے پر کفارہ واجب نہیں ہے اگر چہ حرام سرمہ لگانے کی صورت میں بہتر ہے کہ ایک بکری کفارہ دے ۔
۱۱۔ محرم کے لیے زینت کی خاطر آئینہ دیکھنا جائز نہیں ہے لکین کسی دوسری غرض مثلا اپنے چہرے کے زخم پر مرہم لگانے کے لئے یا چہرہ پر وضو کے لیے پانی پہچنے سے رکاوٹ تلاش کرنے کیلیے یا ڈرائیور کا پیچھے آنے والی گاڑی کو دیکھنے کے لیے یا کسی اور ضرورت کے لیے آئینہ دیکھنا جائز ہے اور تمام صورتوں میں وہ چیزیں جو صاف شفاف ہوں اور آئینہ کا کام دے سکتی ہوں آئینہ کا حکم رکھتی ہیں ۔ وہ شخص زینت کے لیے آئینہ دیکھے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ تلبیہ دوبارہ کہے۔ تاہم عینک لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اگر چشمہ لگانے میں عرفا زینت شمار ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
۱۲۔ مردوں کے لیے جوتے یا موزے پہننا۔

(۲۴۸) محرم مرد کے لیے ایسی چیز پہننا حرام ہے جو اس کے پاؤں کے اوپر کا تمام حصہ ڈھانپ لے مثلا بوٹ اور موزے ۔ سوائے مجبوری کے مثلا مرد کو ہوائی چپل ایسی ہی کوئی اور چپل نہ مل سکے اور مجبورا بوٹ پہننا پڑے لیکن احوط یہ ہے کہ اوپر کا حصہ پھاڑ کر پہنے تاہم ایسی چیز پہننا جائز ہے جو پاؤں کے بعض حصوں کو چھپائے ۔ اسی طرح بوٹ و موزے وغیرہ پہنے بغیر پاؤں کے اوپر کے حصے کو چھپانا مثلا بیٹھ کر چادر کو اپنے پاؤں پر لپیٹنا جائز ہے ۔ بوٹ یا اس جیسی چیزوں کو پہننے سے کفارہ واجب نہیں ہے ۔
چاہے مجبورا پہنے یا بغیر مجبوری کے لیکن موزے یا اس جیسی چیز کو عمدا پہننے سے بنابر احوط کفارہ واجب ہو جائیگا جو کہ ایک بکری ہے۔ عورتوں کے لیے بوٹ یا موزے یا اس جیسی کوئی اور چیز جو پاؤں کے اوپر کے حصے کو چھپا دے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
۱۳۔ فسوق (جھوٹ بولنا، گالی گلوچ کرنا اور فخر و غرور کرنا)

(۲۴۹) فسوق میں جھوٹ بولنا، گالی دینا اور فخر کرنا شامل ہے اگر چہ فسوق ہر حال میں حرام ہے مگر حالت احرام میں اس کی حالت تاکیدی ہے ۔ فخر کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی اپنے حسب و نسب، مال، رتبہ یا اس جیسی چیزوں پر فخر کرے ۔ فخر اس وقت حرام ہے جب اس کے سبب سے کسی مومن کی توہین یا تحقیر ہو رہی ہو ورنہ حرام نہیں ہے ۔ نہ محرم پر اور نہ غیر محرم پر، فسوق کا استغفار کے علاوہ اور کچھ کفارہ نہیں ہے اگر چہ احوط یہ ہے کہ ایک گائے کا کفارہ دے۔
۱۴۔ جدال (بحث و جھگڑا کرنا)

(۲۵۰) محرم کا اس طرح سے بحث یا جھگڑا کرنا جس میں اللہ کی قسم کھا کر کسی چیز کو ثابت کیا جائے یا کسی چیز کا انکار کیا جائے حرام ہے۔ اظہر یہ ہے کہ قسم میں صرف ان دو لفظوں بلی واللہ یا لا واللہ کا لحاظ کرنا معتبر نہیں ہے بلکہ ذات حقیقی کی قسم ہو تو کافی ہے چاہے اسم مخصوص اللہ کے ذریعے قسم کھائے یا اس کے علاوہ کسی اور اسم سے اور چاہے قسم لا، یا، بلی، سے شروع ہو یا نہ ہو، اسی طرح حاہے قسم عربی زبان میں کھائے یا کسی اور زبان میں، اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور مقدس نام کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے چہ جائے کہ کوئی یوں کہے کہ میری جان کی قسم ایسا ہے ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح خبر دینے کے علاوہ قسم کا کوئی اثر نہیں ہے مثلا کسی سے التماس کرنے کے لیے قسم کھانا اور کہنا کہ اللہ کی قسم مجھے فلاں چیز دے دو، خود اپنے ارادے کی تاکید کے لیے قسم کھانا کہ میں مستقبل میں یہ کام کرونگا اور یوں کہنا کہ اللہ میں فلاں چیز تمہیں دونگا، فقہا کا کہنا ہے کہ سچی قسم میں جدال متحقق ہونے میں قسم کا تین مرتبہ پے در پے تکرار کرنا ضروری ہے ۔ ورنہ جدال متحقق نہیں ہوگا تاہم یہ قول اشکال سے خالی نہیں ہے اگر چہ احوط اس کے خلاف میں ہے یعنی ایک مرتبہ میں بھی جدال متحقق ہو جائے گا اور جھوٹی قسم میں جدال کے متحقق ہونے میں بلا اشکال تعدد معتبر نہیں ہے ۔

(۲۵۱) حرمت جدال سے ہر وہ مورد مستثنی ہے کہ جہاں قسم کو ترک کرنے سے مکلف کو نقصان ہو رہا ہو جیسے قسم کو ترک کرنے کی وجہ سے اس کا حق ضائع ہو جائے گا ۔

(۲۵۲) اگر جدال کرنے والا تین مرتبہ پے در پے سچی قسم کھائے تو اس پر ایک بکری کفارہ واجب ہو گی اور تین مرتبہ سے زیادہ تکرار کرنے کی وجہ سے متعدد کفارہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر تین یا زیادہ مرتبہ قسم کھانے کے بعد پھر تین یا زیادہ مرتبہ قسمیں کھائے تو ان دو صورتوں میں کفارہ بھی متعدد ہو جائیگا ۔ اگر ایک جھوٹی قسم کھائے تو ایک مرتبہ پر ایک بکری اور دو مرتبہ پر دو بکری اور تین مرتیبہ قسم کھانے پر ایک گائے کفارہ واجب ہے تین مرتبہ سے زیادہ قسم کھانے پر کفارہ نہ دیا ہو تو ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔ تاہم دوسری مرتبہ جھوٹی قسم کا کفارہ دینے کے بعد تیسری مرتبہ جھوٹی قسم کھانے پر ایک بکری ہی کفارہ ہوگی نہ کہ گائے ۔
۱۵۔ جسم کی جوئیں مارنا۔

(۲۵۳) محرم کے لیے جوئیں مارنا اور بنابر احوط اپنے لباس یا جسم سے نکال کر باہر پھیکنا جائز نہیں ہے۔ تاہم جسم کی ایک جگہ سے پکڑ کر دوسری جگہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر کوئی جوؤں کو مار دے یا پھینک دے تو احوط اولی یہ ہے کہ مٹھی بھر کھانا کفارہ دے۔ احوط یہ ہے کہ اگر مچھر، کھٹمل اور ان جیسے جانور محرم کو ضرر نہ پہچائیں تو ان کو بھی نہ مارے لیکن اظہر یہ ہے کہ انہیں اپنے قریب آنے سے روکنا جائز ہے۔ اگر چہ احوط یہ ہے کہ اس کو بھی ترک کرے۔
۱۶۔ آرائش کرنا (بناؤ سنگھار کرنا)

(۲۵۴) احوط یہ ہے کہ محرم مرد اور عورت اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچائیں جو عموما زینت شمار ہوتی ہے۔ خواہ زینت کا قصد کرے یا نہ کرے ویسے تو عام طور پر مہندی لگانا بھی زینت میں شمار ہوتا ہے لیکن اگر مہندی لگانا زینت میں شمار نہ ہوتا ہو مثلا علاج کی غرض سے استعمال کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح احرام باندھنے سے پہلے لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چاہے اس کے اثرات احرام باندھنے تک باقی رہیں ۔

(۲۵۵) زینت کے بغیر انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ چنانچہ انگوٹھی پہننا ایک مستحب عمل ہونے کی وجہ سے یا گم ہونے سے بچانے کے لیے، طواف کے چکروں کو شمار کرنے کی لیے یا اسی طرح کے کسی اور کام کے لیے ہو تو کوئی حرج نہیں تاہم احوط یہ ہے کہ زینت کے لیے نہ پہنے ۔

(۲۵۶) محرم عورت کے لیے زینت کی نیت سے زیوارات پہننا حرام ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ اگر زینت شمار ہوتے ہوں تو زینت کی نیت کی بغیر بھی نہ پہنے تاہم اتنی مقدار میں زیورات پہننا جنہیں وہ عام طور پر احرام سے پہلے پہنتی تھی اس حکم سے مستثنی ہے لیکن احوط اولی یہ ہے کہ زیورات پہن کرا اپنے شوہر یا دوسرے محرم مردوں کو نہ دکھائے مذکورہ بالا تمام موارد میں اگر کوئی زینت کرے تو کوئی کفارہ واجب نہیں ہے ۔
۱۷۔ تیل لگانا۔

(۲۵۷) محرم کے لیے تیل لگانا حرام ہے چاہے وہ خوشبودار نہ بھی ہو لیکن خوشبودار تیل کھانا جائز ہے چاہے وہ تیل اچھی خوشبو والا ہو جیسا کہ مسئلہ ۲۳۸ میں بیان ہوا محرم کے لیے بغیر خوشبو کا تیل بغیر دوا کے استعمال کرنا جائز ہے بلکہ ضرورت و مجبوری کے وقت خوشبودار تیل چاہے اس کی خوشبو طبیعی ہو یا ملائی گئی ہو استعال کرنا بھی جائز ہے ۔

(۲۵۸) عمدا خوشبودار تیل اس کی خوشبو خواہ طبیعی ہو یا غیر طبیعی استعمال کرنے کا کفارہ ایک بکری ہے اور اگر تیل لا علمی کی وجہ سے استعمال کیا جائے تو دونوں تیلوں کا کفارہ بنابر احوط ایک فقیر کو کھانا کھلانا ہے ۔
۱۸۔ بدن کے بال صاف کرنا ۔

(۲۵۹) محرم کا اپنے یا کسی دوسرے کے بدن سے بال صاف کرنا جائز نہیں ہے چاہے دوسرا بغیر احرام کے ہی کیوں نہ ہو اور چاہے مونڈ کر صاف کرے یا اکھاڑ کر اس حکم میں بالوں کے کم یا زیادہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ایک بال کا کچھ حصہ مثلا آدھا بال کاٹنا جائز نہیں ہے لیکن اگر سر میں جوئیں زیادہ ہونے کے وجہ سے اسے اذیت اور تکلیف ہوتی ہو تو پھر سر منڈوانا جائز ہے۔ اسی طرح سے اگر ضرورت ہو تو بال صاف کرنا بھی جائز ہے وضو یا غسل اور تیمم یا نجاست سے پاک ہونے یا ایسی رکاوٹ کو دور کرتے وقت جو جسم سے چپکی ہوئی ہو حدث یا خبث طہارت سے مانع بن رہی ہو یا کسی اور ضرورت کے وقت اگر بال گریں تو کوئی حرج نہیں ہے جبکہ وہ اس کا قصد نہ رکھتا ہو ۔

(۲۶۰) بغیر ضرورت کے سر منڈوانے کا کفارہ ایک بکری یا تین دن کے روزے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ ہر مسکین کا طعام دو مد (یعنی تقریبا ۱۵۰۰ گرام کے برابر ہے) اگر محرم اپنی دنوں بغلوں کے نیچے کے بالوں کو نوچ کر نکالے تو ایک بکری کا کفارہ دے اور احوط یہ ہے کہ اگر ایک بغل کے نیچے کے بال نوچ کر نکالے تب بھی ایک بکری کا کفارہ دے۔ اگر داڑھی یا کسی اور جگہ کے بال نکالے تو ایک مسکین کو مٹھی بھر کھانا دے۔
مذکورہ بالا موارد میں اگر کوئی مونڈھنے یا نوچ کر نکالنے کے علاوہ کسی اور طرح سے بال نکالے تو احوط یہ ہے کہ اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اگر محرم کسی دوسرے کا سر مونڈے تو دوسرا سر مونڈوانے والا حالت احرام میں ہو یا بغیر احرام کے تو محرم پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہے ۔

(۲۶۱) محرم کے لیے اس طرح سر کھجانے میں کہ جب بال نہ گریں یا خون نہ نکلے کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی حکم بدن کھجانے کا بھی ہے۔ اگر محرم بلا وجہ اپنے سر یا داڑھی پر ہاتھ پھیر ے اور ایک یا کچھ بال گر جائیں تو مٹھی بر کھانا صدقہ دے اور اگر وضو کرتے وقت کچھ بال گریں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے ۔
۱۹۔ مردوں کے لیے سر ڈھانپنا۔

(۲۶۲) محرم مرد کے لیے مقنع یا کپڑے یا دوپٹے وغیرہ سے اپنا پورا سر یا کچھ حصہ ڈھانپنا جائز نہیں ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ گیلی مٹھی یا جھاڑی وغیرہ کے ذریعے بھی سر نہ ڈھانپے تاہم مشک کا تسمہ یا سر درد کی وجہ سے سر پر رومال باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں سر سے مراد بال اگنے کی جگہ ہے اور اقرب یہ ہے کہ اس میں دونوں کان بھی شامل ہیں ۔

(۲۶۳) بدن کے کسی حصے مثلا ہاتھوں سے سر ڈھانپنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس سے بھی اجنتاب ضروری ہے ۔

(۲۶۴) محرم کے لیے پورے سر کو پانی یا بنابر احوط کسی اور چیز میں ڈبونا جائز نہیں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس حکم میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے اور سر سے مراد گردن کے اوپر کا پوراحصہ ہے ۔

(۲۶۵) احوط یہ ہے کہ اگر محرم سر کو چھپائے تو ایک بکری کفارہ دے اور جن موارد میں سر چھپانا جائز نہیں ہے یا مجبورا سر چھپائے تو ظاہر یہ ہے کہ کوئی کفارہ واجب نہیں ہے ۔
۲۰۔ عورتوں کے لیے چہرے کا چھپانا۔

(۲۶۶) حالت احرام میں عورتوں کے لیے برقعہ، نقاب یا چہرے سے چپکنے والی چیز سے چہرہ چھپانا حرام ہے چنانچہ احوط یہ ہے کہ اپنے چہرے یا چہرے کے کچھ حصے کو بھی کسی چیز سے نہ چھپائے تاہم سوتے وقت اور نماز میں سر چھپاتے وقت مقدمہ کے طور پر جب سر پر موجود چادر کو لٹکانے سے نہ چھپ سکتا ہو تو چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

(۲۶۷) حالت احرام میں عورت اپنی چادر کو لٹکا کر، نامحرم سے پردہ کر سکتی ہے یعنی سر پر موجود چادر کو اپنی ناک بلکہ گردن کے مقابل تک کھینچ لے اور اظہر یہ ہے کہ چادر کے اس حصے کو ہاتھ وغیرہ سے چہرے سے دور رکھنا واجب نہیں ہے اگر چہ احوط ہے ۔

(۲۶۸) احوط اولی یہ ہے کہ چہرہ ڈھانپنے کا کفارہ ایک بکری ہے۔
۲۱۔ مردوں کا سائے میں رہنا

(۲۶۹) سائے میں ہونا دو طرح سے تصور کیا جا سکتا ہے:
۱۔ متحرک اشیاء مثلا چھتری، محمل کی چھت، گاڑی یا ہوائی جہاز کی چھت وغیرہ کے زیر سایہ چلنا، جب کہ سایہ دار چیز مذکورہ مثالوں کی طرح اس کے سر کے اوپر ہوں تو محرم مرد پر حرام ہے خواہ وہ سوار ہو یا پیدل تاہم بادل کے نیچے کھڑا ہونا جائز ہے لیکن اگر سایہ دار چیز اس کی سیدھی طرف مثلا سامنے یا پیچھے ہو تو ظاہر یہ ہے کہ پیدل شخص کے لیے ایسا سایہ جائز ہے لہذا محمل یا گاڑی کے سائے میں چلنا محرم مرد کے لے جائز ہے اور سوار کے لیے احتیاط یہ ہے کہ وہ اس سے پرہیز کرے سوائے اس کے کہ عام سورج سے بچنے کا نہ ہو یعنی وہ چیز کھلی ہوئی گاڑی کی دیوار میں محرم مرد کے کسی ایک طرف ہوں اور اتنی چھوٹی ہو کہ محرم کا سر اور سینہ اس سے نہ چھپتا ہو ۔
۲۔ ثابت اور غیر متحرک اشیاء مثلا دیواریں، درخت و پہاڑ یا انہیں جیسی کسی اور چیز کے سائے میں ہو نامحرم مرد کے لیے بنا بر احوط جائز ہے خواہ سوار ہو یا پیدل ۔ اسی طرح محرم کا اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو بچانا سورج کی تپش سے بچانا جائز ہے اگر چہ احوط اس کو ترک کرنے میں ہے ۔

(۲۷۰) سائے میں ہونے سے مراد اپنے آپ کو سورج سے بچانا ہے اور احوط یہ ہے کہ اس حکم میں سورج کے ساتھ بارش کو بھی شامل کیا جائے لیکن اظہر یہ ہے کہ ہوا، سردی، گرمی یا ان جسیی دوسری چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا جائز ہے لیکن احتیاط اس میں بھی ترک کرنے میں ہے۔ چنانچہ بنابر احوط رات کے وقت بارش نہ ہونے کی صورت میں محرم کے لیے چھت والی گاڑی یا کسی اور چیز میں سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر چہ یہ سواری محرم شخص کو ہوا سے بچا رہی ہو ۔

(۲۷۱) زیر سایہ ہونے کی جو حرمت بیان ہوئی ہے وہ حالت سفر سے مخصوص ہے۔ لہذا اگر محرم کسی جگہ پہنچے اور اس جگہ کو رہنے کے لیے منتخب کرے یا نہ کرے مثلا دوران سفر آرام کرنے یا دوستوں سے ملاقات کرنے یا کسی اور وجہ سے رکے تو اس وقت سائے میں رہنے میں اشکال نہیں ہے۔ لیکن اس صورت میں کہ جب یہ کسی جگہ پہنچنے اور رہنے کے لیے قرار دے مگر چاہتا ہو کہ اپنے کاموں کو انجام دینے کے لیے ادھر ادھر جائے مثلا مکہ میں پہنچے اور چاہتا ہو کہ طواف سعی کرنے کے بعد مسجد الحرام جائے یا مثلا منی پہنچے اور قربان یا رمی جمرات کے لیے جانا چاہتا ہو تو اس صورت میں اس کے لیے چھت والی گاڑی میں یا چھتری سے سر پر سایہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواز کا حکم دینا کافی مشکل ہے ۔ چنانچہ احتیاط کو ترک نہیں کرنا چاہیے ۔

(۲۷۲) اگر محرم اپنے آپ کو سورج سے بجائے تو اس پر کفارہ واجب ہے اور ظاہر یہ ہے کہ کفارہ واجب ہونے میں اختیاری حالت اور مجبوری کی حالت ہونے میں فرق نہیں ہے ۔ لہذا اگر کوئی بار بار سائے میں چلے تو اظہر یہ ہے کہ ہر احرام کے لیے ایک کفارہ دے۔ اگر چہ ہر دن کے لیے ایک کفارہ بنابر احوط کافی ہے اور کفارہ میں ایک بکری کافی ہے ۔
۲۲۔ جسم سے خون نکالنا۔
احوط یہ ہے کہ محرم کے لیے اپنے جسم سے خون نکالنا جائز نہیں ہے۔ سوائے کسی مجبوری یا ضرورت کے گر چہ فصد کھولنے، حجامت، دانت نکلوانے، جسم کو کھجانے یا کسی اور وجہ سے۔ لیکن اظہر یہ ہے کہ مسواک کرنا جائز ہے چاہے اس کی وجہ سے خون نکلے احوط اولی یہ ہے کہ بغیر ضرورت کے خون نکالنے کا کفارہ ایک بکری ہے ۔
۲۳۔ ناخن کاٹنا۔
محرم کے لیے ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے۔ اگر چہ کچھ مقدار میں کاٹے، سوائے کسی مجبوری و ضرورت کے مثلا ناخن باقی رکھنے میں اذیت و تکلیف ہوتی ہو ۔ یعنی اگر ناخن کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہو اور باقی حصہ میں درد ہو رہا ہو تو باقی ناخن کو کاٹنا بھی جائز ہے ۔

(۲۷۴) ہاتھ یا پاؤں کا ایک ناخن کاٹنے کا کفارہ ایک مد یعنی تقریبا ۷۵۰ گرام کھانا ہے ۔ چنانچہ اگر دو ناخن کاٹے تو کفارہ دو مد طعام اور اسی طرح نو ناخنوں تک (ناخن کاٹنے کے لحاظ سے کفارہ ہوگا) لیکن اگر ہاتھ اور پاؤں کے پورے ناخن متعدد نشتوں میں کاٹے تو کفارہ دو بکریاں (ایک ہاتھ اور دوسری پاؤں کے ناخنوں کے لیے) ہوگا اور اگر ایک ہی نشست میں کاٹے تو پھر ایک بکری کفارہ واجب ہوگا ۔

(۲۷۵) اگر محرم ایسے شخص کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے ناخن کاٹے جس نے ناخن کاٹنے کے جائز ہونے کا فتوی غلطی سے دیا ہو اور کاٹتے ہوئے خون نکل آئے تو احوط یہ ہے کہ کفارہ فتوی دینے والے پر واجب ہے ۔
۲۴۔ دانت نکلوانا ۔

(۲۷۶) بعض فقہاء نے محرم کے لیے دانت نکلوانا حرام قرار دیا ہے چاہے خون نہ بھی نکلے اور اس کا ایک دنبہ کفارہ واجب ہے۔ لیکن اس حکم کی دلیل میں تامل ہے بلکہ بعید نہیں ہے کہ یہ کام جائز ہو ۔
۲۵۔ اسلحہ رکھنا۔

(۲۷۷) محرم کے لیے اسلحہ پہننا بلکہ بنابر احوط اس طرح ساتھ رکھنا کہ مسلح شمار ہو جائز نہیں ہے۔ اسلحہ سے مراد ہر وہ چیز جو عموما اسلحہ کہلاتی ہے مثلا تلوار، بندوق، تیر وغیرہ تاہم زرہ سپر وغیرہ حفاظتی آلات ہیں نہ کہ اسلحہ ۔

(۲۷۸) محرم کے پاس اسلحہ ہونے میں جبکہ اس نے پہنا ہوا نہ ہو کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح اسلحہ ساتھ رکھنا جبکہ عرفا مسلح شمار نہ ہوتا ہو کوئی حرج نہیں ہے لیکن پھر بھی ترک کرنا احوط ہے ۔

(۲۹۷) حالت اختیاری میں اسلحہ رکھنا حرام ہے لیکن وقت ضرورت مثلا دشمنی یا چوری کا خوف ہو تو جائز ہے ۔

(۲۸۰) بغیر ضرورت کے اسلحہ ساتھ رکھنے کا کفارہ ایک دنبہ ہے۔ ابتک محرم پر حرام ہونے والی چیزیں بیان ہوئی ہیں۔ ذیل میں حرم میں حرام ہونے والے امور بیان کیے جا رہیں ہیں: