مناسک حج

احرام میں ترک کی جانے والی چیزیں

گذشتہ مسائل میں بیان ہوا کہ تلبیہ اور تلبیہ کا حکم رکھنے والی چیزوں (مثلا اشعار و تقلید حج قران میں) کے بغیر احرام نہیں باندھا جا سکتا چاہے نیت بھی کر لی جائے۔
جب مکلف احرام باندھ لے تو ذیل میں درج پچیس چیزیں اس پر حرام ہو جاتی ہیں:

(۱) خشکی کے جانور کا شکار

(۲ ) جماع کرنا

(۳) عورت کا بوسہ لینا

(۴) عورت کو مس کرنا

(۵) عورت کو دیکھنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا

(۶) استمناء

(۷) عقد نکاح

(۸) خوشبو لگانا

(۹) مردوں کے لئے سلا ہوا یا ایسا لباس پہننا جو سلے ہوئے کے حکم میں ہو

(۱۰) سرمہ لگانا

(۱۱) آئینہ دیکھنا

(۱۲) مردوں کے لئے بند جوتے یا موزے پہننا

(۱۳) فسوق (جھوٹ بولنا، مغلظات بکنا)

(۱۴) بحث و جھگڑا کرنا ایسا طرز عمل اختیار کرنا جو کسی مومن کے لئے اہانت کا باعث ہو

(۱۵) جسم کی جوئیں وغیرہ مارنا

(۱۶) آرائش کرنا بننا سنورنا

(۱۷) بدن پر تیل ملنا

(۱۸ ) بدن کے بال صاف کرنا

(۱۹) مردوں کیلئے سر ڈھانپنا اسی طرح پانی میں سر ڈبونا اور یہ عورتوں پر بھی حرام ہے

(۲۰ ) عورتوں کا اپنے چہرے کو چھپانا

(۲۱) مردوں کا سائے میں رہنا

(۲۲) جسم سے خون نکالنا

(۲۳) ناخن کاٹنا (۲۴) ایک قول کے مطابق دانت نکالنا

(۲۵) ہتھیار لے کر چلنا
1۔ خشکی کے جانور کا شکار

(۱۹۹) محرم کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا، ہلاک کرنا زخمی کرنا یا ان کے کسی عضو کو توڑنا بلکہ کسی قسم کی اذیت جائز نہیں اسی طرح محل ّ (جو حالت احرام میں نہ ہو) کے لئے بھی حرم میں حیوانات کو اذیت پہنچانا جائز نہیں یہاں خشکی کے جانور سے مراد وہ جانور ہیں جو جنگلی ہوں چاہے اس وقت کسی وجہ سے پالتو ہوگئے ہوں اور ظاہر یہ ہے کہ اس حکم میں حلال و حرام گوشت جانور میں فرق نہیں۔

(۲۰۰) محرم کے لئے خشکی کے جانور کو شکار کرنے میں کسی اور کی مدد کرنا بھی حرام ہے خواہ دوسرا شخص محرم ہو یا محل یہاں تک کہ اشارہ وغیرہ کے ذریعے بھی مدد کرنا حرام ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ محرم شخص ہر اس کام میں جو خود محرم پر حرام ہیں جو مسئلہ (۱۹۹) میں بیان ہوئے کسی دوسرے کی مدد نہ کرے۔

(۲۰۱) محرم کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ شکار کو اپنے پاس محفوظ رکھے چاہے احرام سے پہلے خود اس نے کیا ہو یا کسی اور نے حرم میں کیا ہو یا حرم سے باہر۔

(۲۰۲) محرم کیلئے شکار کا کھانا جائز نہیں چاہے محل نے حرم سے باہر شکار کیا ہو اسی طرح محل کے لئے بھی اس حیوان کا گوشت کھانا جسے محرم (احرام والے شخص نے سے شکار کیا ہو، خواہ شکار کو مارا ہو یا شکار کرکے ذبح کیا ہو بنابر احوط حرام ہے نیز محل پر اس حیوان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے جسے کسی محرم یا کسی اور شخص نے حرم میں شکار یا ذبح کیا ہو ۔

(۲۰۳) بری جانوروں کا بھی وہی حکم ہے جو خود جانوروں کا حکم ہے ۔ چنانچہ بعید نہیں کہ اس حیوان کے انڈے کو کھانا، توڑنا اور اٹھانا بھی محرم پر حرام ہے۔ لہذا احوط یہ ہی کہ انڈوں کے اٹھانے کھانے اور توڑے میں بھی کسی کی مدد بھی نہ کرے۔

(۲۰۴) جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ یہ مسائل خشکی کے جانوروں کے لیے مخصوص ہیں اور ٹڈی بھی انہیں میں سے ہے ۔ لیکن دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دریائی حیوانات سے مراد وہ جانور ہیں جو صرف پانی میں زندگی گزارتے ہوں مثلا مچھلی، خشکی اور پانی دونوں میں زندگی گزارنے والے جانوروں کا شمار خشکی کے جانوروں میں ہوگا۔ اگر چہ اظہر یہ ہے کہ وہ حیوان جس کے خشکی کے ہونے میں شک ہو، اس کا شکار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(۲۰۵) جس طرح خشکی کے جانور کا شکار حرام ہے اسی طرح ہلاک کرنا، خواہ شکار نہ بھی کرے حرام ہے اس حکم سے چند چیزیں مستثنی ہیں ۔
۱۔ پالتو جانور چاہے کسی وجہ سے وحشی بن گئے ہوں مثلا بھیڑ، گائے، اونٹ اور پرندے جو مستقل طور اڑ نہیں سکتے مثلا مرغ، چینی مرغ وغیرہ کو ذبح کرنا محرم کے لیے جائز ہے۔ اسی طرح ان حیوانات کو بھی ذبح کرنا جائز ہے جن کے پالتو ہونے کا احتمال ہو ۔
۲۔ اجگر اور سانپ وغیرہ جن سے محرم کو اپنی جان کا خطرہ ہو، مارنا جائز ہے ۔
۳۔ درندہ صفت پرندے جو حرم کے کبوتروں کو اذیت دیں ان کو مارنا جائز ہے ۔
۴۔ زہریلا سیاہ سانپ بلکہ ہر خطرناک سانپ، بچھو اور چوہا، ان کو ہر ہال میں مارنا جائز ہے اور ان کو مارنے میں کوئی کفارہ نہیں ہے۔ مشہور قول کے بناپر شیر مستثنی ہے۔ مزید بر آں جن درندوں سے جان کا خوف نہ ہو ان کو مارنے سے کفارہ واجب ہو جاتا ہے اور ان کا کفارہ ان کی قیمت ہے۔

(۲۰۶) محرم کے لئے کوے اور شکاری باز کو تیر مارنا جائز ہے اور اگر وہ تیر لگ جانے سے مر جائیں تو کفارہ واجب نہیں ہے۔