مناسک حج

وجوب حج

ہر صاحب شرائط مکلف پر حج واجب ہے اور اس کا واجب ہونا قرآن اور سنت قطعیہ سے ثابت ہے۔ (شرائط کا بیان آگے آئے گا) ۔
حج ارکان دین میں سے ایک رکن ہے اور اس کا وجوب ضروریات دین میں سے ہے۔حج کے وجوب کا اقرار کرتے ہوئے اس کا ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے جب کہ خود حج کا انکار اگر کسی غلطی یا شک و شبہ کی وجہ سے نہ ہو تو کفر ہے۔ پروردگار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین
اور لوگوں پر واجب ہے کہ محض خدا کے لیے خانہ کعبہ کا حج کریں جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو۔ اور جس نے استطاعت کے باوجود حج سے انکار کیا تو خدا سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔ (آل عمران آیت ۹۷) شیخ کلینی رحمة اللہ علیہ معتبر ذرائع سے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ امام نے فرمایا: جو شخص حج الاسلام کیے بغیر مرجائے جب کہ اس کا حج نہ کرنا کسی قطعی ضرورت، بیماری یا حکومت کی طرف سے رکاوٹ کی وجہ سے نہ ہو تو اس کی موت یہودی یا نصرانی کی موت ہوگی۔
اس موضوع پر بہت زیادہ روایتیں ہیں جو حج کے وجوب پر دلالت کرتیں ہیں مگر ہم اختصار کی خاطر ان کو پیش نہیں کر رہے ہیں ۔ اور اپنے مقصد کی خاطر مذکورہ بالا آیت اور روایت پر ہی اکتفا کر رہیں ہیں۔
شریعت مقدسہ میں ہر مکلف پر حج ایک مرتبہ واجب ہے جسے حج الاسلام کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ممکن ہے کہ حج ایک یا زیادہ مرتبہ واجب ہو جائے مثلا کسی کے بدلے حج کرنے یا اجیر وغیرہ بننے کے صورت میں ۔جس کا بیان آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر ۱۔
جب شرائط ثابت ہونے کی صورت میں حج واجب ہوجائے تو حج واجب فوری ہے۔ لہذا استطاعت کے پہلے سال ہی حج کی ادائیگی واجب ہے چنانچہ اگر مکلف پہلے سال حج نہ کرے تو دوسرے سال انجام دے ۔ اسی طرح آئندہ سالوں میں عدم ادائیگی کی صورت میں وجوب باقی رہے گا ۔حج کے واجب فوری ہونے کی دو صورتیں ہیں:
۱۔ جیسا کہ علماء میں مشہور ہے کہ واجب فوری ہونا شرعی ہے۔
۲۔ احتیاط کی بنا پر واجب فوری ہونا عقلی ہے تا کہ واجب میں بلا عذر تاخیر کی وجہ سے عذاب کا مستحق نہ ہو۔
ان میں سے پہلی صورت احوط اور دوسری صورت اقوی ہے لہذا اگر یہ اطمینان نہ ہونے کے باوجود کہ آئندہ حج انجام دوں گا پھر بھی جلدی نہ کرے تو اگر بعد میں انجام دے بھی دے تو گستاخ قرار پائے گا اور عدم ادائیگی کی صورت میں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا۔

(۱) جب حج واجب ہو جائے تو اس کے مقدمات و وسائل کو اس طرح تیار کرنا ضروری کہ حج کو وقت پر ادا کیا جا سکے۔ اگر قافلے متعدد ہوں اور اطمینان ہو کہ جس کے ساتھ بھی جاؤں گا حج ادا ہوجائیگا تو مکلف کو اختیار ہے کہ جس کے ساتھ مرضی ہو جائے اگر چہ بہتر یہ ہے کہ جس کے ساتھ زیادہ اطمینان ہو اس کے ساتھ جائے اور ایسے قافلے کے ساتھ تاخیر کرنا جائز نہیں ہے سوائے اس کے کہ اطمینان ہو کہ دوسرا قافلہ مل جائے گا جس کے ساتھ جانا اور حج کرنا ممکن ہوگا اسی طرح خشکی، بحری اور ہوائی راستے سے جانے کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔

(۳) اگر استطاعت ہونے کے بعد اسی سال حج پر جانا واجب ہوجائے اور کوئی شخص اس اطمینان کے ساتھ کہ تاخیر کے باوجود اسی سال حج کر سکے گا جانے میں تاخیر کرے لیکن اتفاقا کسی تاخیر کے وجہ سے حج نہ کر سکے تو تاخیر کرنے میں معذور شمار ہوگا اور اظہر یہ ہے کہ حج اس کے ذمہ ثابت نہ ہو گا اسی طرح دوسرے ان تمام موارد میں اگر کسی اتفاق کی وجہ سے حج نہ سکے تو معذور سمجھا جائے گا بشرطیکہ اس کی طرف سے کوئی کوتاہی اور کمی نہ ہوئی ہو۔